logo
پھلوں کا بادشاہ آم

پھلوں کا بادشاہ آم

پھلوں کا بادشاہ آم

سب پھلوں کے بادشاہ کو سلام کریں!  آخرِ کار آموں کا موسم آ گیا ہے اور پاکستان میں اور پاکستان کے ارد گرد رہنے والے تمام لوگوں کا انتظار ختم ہوگیا ہے۔ پاکستان میں گرمیوں کے موسم کا مطلب یہ بھی ہے کہ اس موسم میں مختلف اقسام کے مزیدار پھل اور خاص طور پر آم آتے ہیں جس سے ہر چھوتا بڑا یکساں لطف اندوز ہوتا ہے۔ 
ہمارا ملک دنیا میں آم پیدا کرنے والا چوتھا سب سے بڑا ملک ہے، جہاں آموں کی سیکڑوں اقسام گھر گھر پیدا ہوتی ہیں۔ ان میٹھے اور کھٹے ذائقے والے آموں کے زبردست فوائد ہیں۔ پاکستان میں عام طور پر آم گرم علاقوں میں کاشت کیے جاتے ہیں اور لاتعداد فوائد مہیا کرتے ہیں، جیسے پتے، چھال اور یہاں تک کہ ان کی گٹھلی اور جلد بھی مختلف کاموں میں استعمال ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے پاکستانی آم ہمارے دلوں میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ پوری دنیا میں برآمد ہوتے ہیں۔ 
اس متنوع پھل کو بہت سارے طریقوں سے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر اسے براہِ راست کھایا جاسکتا ہے، سلاد میں، میٹھے پکوانوں میں، آم کے اچار کی مختلف اقسام میں بنایا جا سکتا ہے، یا آمیزے، اسموتھیز، شیک یا یہاں تک کہ آم کی لسی بھی مل جاتی ہے جو پورے ملک میں بے حد مشہور ہے۔
اس بلاگ میں ہم نے آپ کے لیے آموں کی اقسام اور فوائد کے حوالے سے تمام اہم معلومات مرتب کی ہیں جو آپ کو مختلف قسم کے آموں کے بارے میں جاننے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں آم کی جو اقسام اگائی جاتی ہیں وہ دنیا بھر میں مقبول ہیں ان معلومات سے آپ کو یہ فائدہ ہوگا کہ اگلی بار جب بھی آپ آم کی خریداری کے لیے جائیں تو آپ کے والد کی مدد کے بغیر بھی آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ آپ کو کس قسم کا آم خریدنا چاہیے۔ 


ذیل میں آم کی سب سے مشہور اقسام دی جارہی ہیں جو آپ کو پاکستان میں ملیں گی۔

چونسہ۔
سندھڑی۔
انوررٹول۔
لنگڑا۔
دُسہری۔

چونسہ:

پاکستانی پنجاب کے علاقے رحیم یار خان سے شروع ہونے والی آم کی اس مشہور قسم کا نام شیر شاہ سوری کے نام پر رکھا گیا ہے جس نے ہندوستان کے علاقے بہار میں ہونے والی ایک لڑائی میں مغل بادشاہوں میں سے ایک ہمایوں کو شکست دی تھی۔
چونسہ پورے سوری قبیلے کا پسندیدہ ہوتا تھا۔ چونسہ آم ہر طرح کے آموں میں سے ایک مشہور آم ہے اور اس کے حیرت انگیز میٹھے ذائقے کی وجہ سے لوگوں میں بے حد مقبول ہے اور سب سے زیادہ پسندیدگی کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت اس مزیدار آم کو اپنے انگوٹھوں سے نرم کرکے براہ راست رس چوسنا اور خام حالت میں کھانا پسند کرتی ہے۔ چونسہ آم کے پکنے کا موسم جون کے درمیان اور اگست سے ستمبر کے آخر تک ہوتا ہے۔

سندھڑی:

سندھڑی آم کی ابتدا پاکستان کے ضلع میر پور خاص سے ہوئی۔ اس آم کی شکل بیضوی ہوتی ہے اور اس کی جلد چمکیلی اور پیلے رنگ کی ہوتی ہے۔ یہ انتہائی خوشبودار آم ذائقے کی علامت ہے جو عام طور پر میٹھا ہوتا ہے لیکن فصل کی ابتدا کے موسم میں تھوڑا سا کھٹا بھی ہوتا ہے اس لیے اسے مکمل پکنے پر کھایا جائے تو اس کا اصلی مزہ حاصل ہوتا ہے۔ اس آم کا نام سندھ سے آیا ہے کیونکہ یہ آم کی قسم پاکستان کے صوبہ سندھ میں عام طور پر اگائی جاتی ہے۔ سندھڑی آم خام حالت میں کھانے کے علاوہ شیک، آئس کریم، اور اسموتھیز بنانے میں استعمال ہوتے ہیں۔ زیادہ تر لوگ سندھڑی آم کی جلد کو چھیلنے کے بعد ان آموں کو کیوب کی شکل میں کاٹ کر کھاتے ہیں۔ سندھڑی آموں کے پکنے کا سیزن مئی سے اگست کے درمیان ہے اور ان کی زندگی آم کی دوسری اقسام کے برعکس  زیادہ طویل ہوتی ہے۔

  انور رٹول:

اس آم کا نام انور الحق سے جوڑا جاتا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ہندوستان کے صوبے اترپردیش کے ضلع باغپت  میں اس طرح کے آم کی فصل لگانے والا پہلا شخص تھا۔
یہ آم زیادہ مانگ اور لذت کی وجہ سے آم کے "بادشاہ" کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ اس کی کاشت بنیادی طور پر پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کی جاتی ہے۔ انور رٹول کے پکنے کا موسم مختصر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی بہت زیادہ مانگ ہے اور یہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں لوگوں میں آموں کی سب سے پسندیدہ اقسام میں سے ایک ہے۔

 لنگڑا :
یہ آم ہندوستان کے شمالی حصے وارانسی (بنارس) سے تعلق رکھتا ہے جہاں اس کی پہلی بار کاشت کی گئی تھی۔ اس آم کا نام لنگڑا رکھنے کے پیچھے کی وجہ معلوم نہیں ہے، لیکن افواہیں یہ ہیں کہ اس آم کی اولین کاشت کرنے والا شخص خود بھی لنگڑا تھا۔ جس کی وجہ سے اس آم کو بھی لنگڑا کا نام دے دیا گیا۔ آم کی اس قسم کی انوکھی خصوصیت اس کا رنگ ہے جو پکنے کے بعد بھی سبز رہتا ہے لیکن اندر سے نارنجی ہوتا ہے اور اس کا ذائقہ غیر معمولی ہے۔ اس کی فصل کا موسم جولائی کے وسط سے ستمبر تک ہوتا ہے اور اس کا ذائقہ پھل کے پکنے پر منحصر ہوتا ہے جو بہت میٹھا سے تھوڑا سا کھٹا ہوجاتا ہے۔

 دُسہری :

پاکستان میں پیدا ہونے والے آموں میں ایک اور مقبول قسم دُسہری ہے۔ اس کی جڑیں ان باغات سے شروع ہوئی ہیں جن کا تعلق ہندوستان کے علاقے لکھنؤ کے نوابوں سے تھا۔ انتہائی میٹھا اور ہونٹوں کو چپکانے والا یہ مزیدار آم بہترین ذائقہ رکھتا ہے۔ اس چھوٹے سے آم سے لطف اٹھانے کا بہترین وقت جولائی کے پہلے تین ہفتوں کے درمیان کا ہوتا ہے جب وہ ذائقے اور خوشبو میں بہترین ہوتے ہیں۔ 
نیلم، فجری، سرولی، مالدہ اور طوطا پری دیگر قسم کے پاکستانی آم ہیں جو پاکستان میں ہی تیار ہوتے ہیں اور آسانی سے دستیاب ہیں۔



آم کے درخت کو اگانا بھی بہت آسان ہے اور یہ عام طور پر سندھ اور پنجاب میں بہت سے مکانات کے پائیں باغ میں دیکھا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ملک کا موسم آم کے درخت اگانے اور پھلوں کی افزائش کے لیے بہترین ہے۔
آپ اپنے گھر میں لگے آموں سے یا باآسانی بازار میں دستیاب مزیدار جوس، شیک اور شربت بھی بنا سکتے ہیں اور اپنے دوستوں اور اہلخانہ کے ساتھ اس سے بھرپور لطف اٹھا سکتے ہیں۔
بونس: صحیح وقت پر لطف اندوز ہونے کے لیے آم کے شربت کا ایک زبردست تین اجزاء پر مشتمل نسخہ دستیاب ہے۔ مزے کریں۔

not null

ایسا شخص جسے کھانوں سے بہت محبت ہے،مجھے لکھنا بھی نا قابل بیان حد تک پسند ہے۔ یہاں آپ سے ان بلاگز کے ذریعے اپنے کچھ ذاتی خیالات شیئر کر رہی ہوں۔

مترجم : سید کامران علی شاہ

 

اپنی رائے دیں

 

رائے (2)

 

اپنے ان باکس میں ترکیبیں، تجاویز اور خصوصی پیشکشیں حاصل کریں