kanas logog
آم خریدتے ہوئے کیا کریں، کیا نہ کریں

آم خریدتے ہوئے کیا کریں، کیا نہ کریں

آم خریدتے ہوئے کیا کریں، کیا نہ کریں

ہر بار جب گرمیاں آتی ہیں تو چمکتے دمکتے، روشن، میٹھے اور خوشبودار آم پورے پاکستان میں جا بجا نظر آتے ہیں، ملک کے مختلف علاقوں میں واقع کئی مکانات میں بھی آپ کو آم کے ہرے بھرے پیڑ مل سکتے ہیں۔ تاہم، اچھے، رسیلے اور میٹھے آم حاصل کرنے کے لیے تھوڑا سا کام کرنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے لیکن صحیح تراکیب کی مدد سے آپ ہر بار بہترین آم حاصل کر سکتے ہیں۔

میٹھے اور رسیلے آم خریدنے میں آپ کی مدد کرنے کے لیے یہاں ایک فوری ہدایت نامہ پیش کیا جارہا ہے جو یقیناً آپ کے کام آئے گا۔

 

کیا کرنا چاہیے؟

 تپش محسوس کریں:

ہوسکتا ہے کہ آپ بازار میں ملنے والے آموں کی چمک دمک اور ظاہری خوبصورتی کو دیکھ کر ہی اس کی طرف راغب ہو جائیں، لیکن ایک بنیادی عنصر کے طور پر نظروں کو استعمال کرنے میں آپ کو دھوکہ بھی ہوسکتا ہے کیونکہ آنکھوں کو بھلی لگنے والی ہر چیز آپ کے لیے بہترین نہیں ہوسکتی۔

اچھے آموں کی تلاش کے لیے آپ کی مدد کرنے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اچھے آموں کو ہاتھ لگا کر اور اس کی سوندھی مہک کو سونگھ کر محسوس کرنا ہوتا ہے کہ یہ اندر سے کیسا نکلے گا۔ اگر پھل کو ہلکا سا دبانے پر وہ آپ کو سخت محسوس ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ابھی تک مکمل طور پر پکا نہیں ہے اور اس کا ذائقہ بھی اچھا نہیں ہوگا۔

جب آپ ان کو ہلکا سا دبا کر دیکھیں تو آم کو آڑو کی طرح قدرے نرم محسوس ہونا چاہیے۔

 

 

 

آموں کی مہک کو سونگھیں:

اچھے آم خریدنے کا اگلا حصہ اس کی میٹھی اور بھینی مہک کو چیک کرنا ہے۔ اچھی طرح پکے ہوئے آم میں ایک میٹھی اور بھینی مہک ہوتی ہے جو پھل کے تیار ہونے کا عندیہ دیتی ہے۔ اگر پھلوں میں سے میٹھی اور سوندھی مہک نہیں آتی ہے تو اس کا مطلب یہ کچا ہوگا یا زیادہ پکنے کے باعث گلنے کے قریب ہے۔

 

ٹائمنگ ہی اصل چابی ہے:

اگرچہ مئی کے آخر میں آم مارکیٹ میں آنے لگتے ہیں، تاہم آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہر طرح کے آم خریدنے کا بہترین وقت آگیا ہے۔

آپ مارکیٹ میں جون سے جولائی تک بہترین دسہری آم پاسکتے ہیں۔ جبکہ مارکیٹ میں بہترین چونسا اور لنگڑا آم جولائی اور اگست کے درمیان دستیاب ہوتے ہیں۔

 

کیا نہیں کرنا

رنگت پر مت جائیں:

آپ کو سب سے روشن، رسیلی اور پیلے رنگ کے آم خریدنے کا لالچ ہوسکتا ہے، اور اگر آپ واقعی صرف رنگت پر مر مٹتے ہیں توحقیقت میں آپ کچھ زیادہ اچھا نہیں کرنے جا رہے۔

چونکہ آم کی ہر قسم پکنے کے بعد مختلف رنگ اختیار کرلیتی ہے جو ایک دوسرے سے منفرد ہوتے ہیں، مگر صرف رنگت کے پیچھے جانا واقعی اندھیرے میں تیر چلانا ہی ہو سکتا ہے۔

 

سیاہ دھبے:

ہر قیمت پر جھریوں اور سیاہ دھبوں والے داغ دار آموں سے پرہیز کریں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ان آموں کی کاشت بہت جلدی ہوچکی ہے اور اس کے نتیجہ میں کوئی اچھا پھل پیدا نہیں ہوا ہے۔ آپ بھی جانتے ہیں کہ بازار میں اپنی فصل کو بیچنے کے لالچ میں بہت سے بیوپاری آموں کو مصنوعی طرہیقوں سے پکاتے ہیں جس سے آم بظاہر تو ٹھیک ٹھاک لگتا ہے مگر اپنے ذائقے میں لذیذ نہیں ہوتا۔  

اس حوالے سے اپنی کوششوں اور قابل بھروسہ نکات کو ہمارے ساتھ شیئر کریں اور اگر ہمارے تبصرہ میں کوئی کمی محسوس ہوئی تو ہمیں آگاہ کریں۔

 

not null

ایک ایسا شخص جو "آءیے کھانے کے بارے میں اظہار خیال کریں" کے رویہ کے ساتھ کھانے کے معاملات کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔ یہاں دلچسپ اور تفریحی بلاگز کے ذریعے لوگوں سے کھانے کے بارے میں اپنی محبت کا اشتراک کرنے کے لیے موجود ہے۔

مترجم : Kamran Shah

 

اپنی رائے دیں

 
 

اپنے ان باکس میں ترکیبیں، تجاویز اور خصوصی پیشکشیں حاصل کریں